شہزاد اکبر نے لندن میں ملک ریاض سے بیگ لینے کی ویڈیو کی حقیقیت بتا دی ملک ریاض نے جو بیگ دیا اس میں ان کا لیپ ٹاپ تھا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کی گفتگو 285

شہزاد اکبر نے لندن میں ملک ریاض سے بیگ لینے کی ویڈیو کی حقیقیت بتا دی ملک ریاض نے جو بیگ دیا اس میں ان کا لیپ ٹاپ تھا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کی گفتگو


شہزاد اکبر نے لندن میں ملک ریاض سے بیگ لینے کی ویڈیو کی حقیقیت بتا دی
ملک ریاض نے جو بیگ دیا اس میں ان کا لیپ ٹاپ تھا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کی گفتگو
کچھ عرصہ قبل پاکستان کے معروف کاروباری شخصیت ملک ریاض اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے مابین ملاقات کا انکشاف ہوا تھا۔دونوں کی ملاقات لندن میں ہوئی تھی۔ملک ریاض اور شہزاد اکبر کی ملاقات کی تصاویر اور ویڈیوز بھی سامنے آئی تھیں جس پر کئی سوالات اٹھائے گئے تھے۔
تاہم دو روز قبل جب ملک ریاض کی برطانیہ میں جائیداد کے حوالے سے خبر سامنے آئی تو پھر سے شہزاد اکبر اور ملک ریاض کی لندن میں ہونے والی ملاقاتوں پر سوالات اٹھائے گئے۔دونوں کی ملاقات کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ ایک گاڑی کے پاس کھڑے ہیں اور آپس میں بات چیت کر رہے ہیں۔اس موقع پر شہزاد اکبر کو ملک ریاض سے ایک بیگ پکڑتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

واضح رہے کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے پاکستان کے رئیل سٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض اور ان کے خاندان سے 19 کروڑ پاﺅنڈ مالیت کے اثاثوں کی فراہمی کے عوض تصفیہ کرنے کی تصدیق کی ہے‘ یہ تصفیہ نیشنل کرائم ایجنسی کی ملک ریاض کے خلاف تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آیا ہے اور یہ رقم اور اثاثے ریاست پاکستان کو لوٹا دیے جائیں گے. برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ تصفیے کے تحت ملک ریاض اور ان کا خاندان جو 19 کروڑ پاﺅنڈ مالیت کے اثاثے دے گا ان میں منجمد کیے جانے والے بینک اکاﺅنٹس میں موجود رقم کے علاوہ مرکزی لندن کے متمول علاقے میں واقع ون ہائیڈ پارک پلیس نامی عمارت کا ایک اپارٹمنٹ بھی شامل ہے جس کی مالیت پانچ کروڑ پاﺅنڈ کے لگ بھگ ہے. بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگست 2019 میں اسی تحقیقات کے سلسلے میں 8 بینک اکاﺅنٹ منجمد کیے گئے تھے جن میں 12 کروڑ پاﺅنڈ کی رقم موجود تھی یہ برطانوی کریمنل فنانسز ایکٹ 2017 میں اے ایف او کے متعارف کروائے جانے کے بعد سے اب تک کسی بھی اکاﺅنٹ کی منجمد ہونے والی سب سے بڑی رقم ہے‘اس سے قبل اسی تحقیقات کے سلسلے میں دسمبر 2018 میں بھی دو کروڑ پاﺅنڈ کی رقم منجمد کی گئی تھی‘مجسٹریٹ کے احکامات کے بعد نیشنل کرائمز ایجنسی نے ان فنڈز کے حوالے سے مزید تحقیقات کیں این سی اے نے امکان ظاہر کیا تھا کہ اگر اس رقم کو غیر قانونی ذریعوں سے حاصل کیا گیا ہے یا اسے غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کیا جائے گا تو پھر اسے ضبط کر لیا جائے گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں