بنگلہ دیش کا پاکستان کیخلاف سیریز نیوٹرل مقام پرکھیلنے کا عندیہ حکومت سے کسی بھی وجہ سے کلیئرنس نہ ملنے پر غیر جانبدار مقام پر کھیلیں گے:اکرم خان 228

بنگلہ دیش کا پاکستان کیخلاف سیریز نیوٹرل مقام پرکھیلنے کا عندیہ حکومت سے کسی بھی وجہ سے کلیئرنس نہ ملنے پر غیر جانبدار مقام پر کھیلیں گے:اکرم خان

بنگلہ دیش کا پاکستان کیخلاف سیریز نیوٹرل مقام پرکھیلنے کا عندیہ
حکومت سے کسی بھی وجہ سے کلیئرنس نہ ملنے پر غیر جانبدار مقام پر کھیلیں گے:اکرم خان
بنگلہ دیشی حکومت بدستور خاموش ہے اور پاکستان کیخلاف آئندہ برس کے اوائل میں شیڈول سیریز اب نیوٹرل مقام پر بھی زیر غور ہے ،بی سی بی کرکٹ آپریشنز کے چیئرمین اکرم خان نے واضح کیا ہے کہ حکومت کی طرف سے دورے کی اجازت مل جائے تو پھر پاکستان کرکٹ بورڈ سے مزید مذاکرات کریں گے ،کھلاڑیوں کےساتھ مل بیٹھ کر ان کی رائے بھی لی جائے گی،کسی بھی وجہ سے کلیئرنس نہ ملنے پر غیر جانبدار مقام پر کھیلیں گے کیونکہ ٹیسٹ اور ٹی ٹونٹی میچوں کے الگ مقامات پر انعقاد سے پی سی بی نے انکار کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جنوری اور فروری میں بنگلہ دیشی ٹیم کو آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے سلسلے میں 2 میچز اور 3ٹی ٹونٹی میچز پاکستان میں کھیلنا ہیں جو فیوچر ٹور پروگرام کا بھی حصہ ہیں البتہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو مجوزہ دورے کیلئے اپنی حکومت کی جانب سے اجازت کا انتظار ہے جو کسی بھی طرح نہیں مل سکی تو پھر یہ میچز کسی غیر جانبدار مقام پر کھیلنے جانے کا بھی امکان ہے۔

بی سی بی کرکٹ آپریشنز کے چیئرمین اکرم خان نے شیر بنگلہ نیشنل سٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو میں ایک بار پھر واضح کردیا کہ اگر انہیں حکومت کی جانب سے اجازت مل گئی تو وہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے مزید بات چیت کریں گے لیکن حکومت کی جانب سے تاحال کوئی جواب نہیں ملا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہر چیز کا انحصار حکومت پر ہے کہ وہ کیا چاہتی ہے کیونکہ اسکی جانب سے کلیئرنس کے بعد ہی وہ مل بیٹھ کر کھلاڑیوں سے بھی بات چیت کریں گے کہ وہ پاکستان ٹور کے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیشی سکیورٹی وفد نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا تھا جس کی بنیاد پر بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ نے اپنی خواتین اور انڈر 16ٹیم پاکستان کے دورے پر بھیجی تھی اور اب اسی وفد کی جانب سے بنگلہ دیشی حکومت کو رپورٹ دی جائےگی کہ وہ اپنی مینز کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجے یا نہیں۔اکرم خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ مذاکرات میں ٹیسٹ اور ٹی ٹونٹی سیریز کو مختلف مقامات پر کھیلنے سے متعلق بات ہوئی تھی لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے وہ تجویز مسترد کردی گئی تھی۔
واضح رہے کہ پی سی بی کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اگر ٹیسٹ سیریز ملک سے باہر اور ٹی ٹونٹی سیریز پاکستان میں کھیلی گئی تو دنیا میں پاکستان کے حوالے سے منفی تاثر جائےگا جسکا پاکستان سپر لیگ اور مستقبل کے دوروں پر بھی اچھا اثر نہیں پڑےگا۔اکرم خان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں کسی بھی وجہ سے حکومت کی جانب سے کلیئرنس نہیں مل تو پھر سیریز کے نیوٹرل مقام پر انعقاد کیلئے بات چیت کرنا ہوگی لیکن اجازت مل جانے پر حالات یکسر مختلف ہوں گے مگر فی الحال انہیں حکومت کی جانب سے سکیورٹی رپورٹ کا انتظار کرنا ہی ہوگا۔
واضح رہے کہ رواں ماہ سری لنکن ٹیم کی پاکستان آمد کے تناظر میں تمام تر نگاہیں بنگلہ دیش پر مرکوز ہیں کہ اسکی جانب سے پاکستان ٹور کے بارے میں کیا فیصلہ کیا جاتا ہے البتہ اکرم خان کا خیال ہے کہ انکا دوسری ٹیموں سے کوئی تعلق نہیں کہ کون پاکستان جاتا ہے اور کون نہیں کیونکہ اگر انہیں کلیئرنس مل گئی تو پھر وہ لازمی طور پر پاکستان کے دورے پر جائینگے۔واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کے دورے پر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں ہونےوالے دہشتگردی کے سانحے کے بعد بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ نے ہر ملک کا دورہ کرنے سے قبل اپنا سکیورٹی وفد بھیجنا معمول بنا لیا ہے اوربنگلہ دیشی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دورے سے قبل بھی یہی طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں