نیب نے شہباز شریف کے اثاثے منجمد کرنے کے احکامات جاری کر دیئے منجمد کی گئے اثاثوں میں لاہور‘ایبٹ آباد‘ڈونگا گلی ‘ہری پور اور چنیوٹ کی13 جائیدادیں شامل ہیں 244

نیب نے شہباز شریف کے اثاثے منجمد کرنے کے احکامات جاری کر دیئے منجمد کی گئے اثاثوں میں لاہور‘ایبٹ آباد‘ڈونگا گلی ‘ہری پور اور چنیوٹ کی13 جائیدادیں شامل ہیں

نیب نے شہباز شریف کے اثاثے منجمد کرنے کے احکامات جاری کر دیئے
منجمد کی گئے اثاثوں میں لاہور‘ایبٹ آباد‘ڈونگا گلی ‘ہری پور اور چنیوٹ کی13 جائیدادیں شامل ہیں
ومی احتساب بیو رو (نیب) نے مسلم لیگ نون کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف میاں محمد شہباز شریف کے اثاثے منجمد کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں‘نیب کے احکامات کے تحت شہباز شریف کی منجمد کی گئی پراپرٹیز میں 13 جائیدادیں شامل ہیں. نیب کی جانب سے صدر مسلم لیگ نون کے لاہور کے علاقے ڈیفنس فیز 5 میں واقع 2 گھر بھی منجمد کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں‘میاں شہباز شریف کے لاہور کے علاقے ماڈل ٹاﺅن میں واقع 2 گھر 96 ایچ اور 87 ایچ بھی منجمد کرنے کا حکم دیا گیا ہے.

نیب نے شہباز شریف کی ایبٹ آباد ڈونگا گلی کی رہائش گاہ کے علاوہ ہری پور کی 3اور چنیوٹ میں 2 مقامات پر جائیدادیںمنجمد کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں. یا د رہے کہ قبل ازیں احتساب عدالت نے شہباز شریف کے صاحبزادوں حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کی ملکیتی اثاثہ جات منجمند کرنے کا حکم جاری کیا تھا جسے گزشتہ روز عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے العریبیہ شوگر مل کی جانب سے لاہورہائی کورٹ میں دائر درخواست میں چیئرمین نیب، ڈی جی نیب اور تفتیشی افسر سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے.
درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ چیئرمین نیب کو سیکشن 12 کے تحت کو نیم عدالتی اختیار دیا گیا ہے اور قانون کہتا ہے کہ جس کو یہ اختیار دیا جائے وہ اسے آگے منتقل نہیں کر سکتا. عدالت کو بتایا گیا کہ مذکورہ کیس میں چیئرمین نیب کے اختیارات ڈی جی نیب نے استعمال کیے جس کی قانون اجازت نہیں دیتا اور نیب لاہور نے خلاف قانون اقدام اٹھاتے ہوئے العزیزیہ اسٹیل مل کے اثاثہ جات کو فریز کیا.
متن میں درج ہے کہ مذکورہ کمپنی کی شئیر ہولڈر کے علاوہ قانونی طور پر الگ حیثیت ہے، کمپنی کے اثاثہ جات سے شئیر ہولڈر اور ڈائریکٹرز کا کوئی تعلق نہیں ہے‘ اس معاملے میں کمپنی کی ایک الگ قانونی حیثیت ہے اور ملزمان کا اثاثہ جات سے کوئی تعلق نہیں ہے. عدالت میں موقف اپنایا گیا کہ کمپنی ناں ہی مجرم ہے اور ناں ہی کسی کی رشتہ دار ہے، کمپنیز ایکٹ کی شق 41 بی کے تحت جب تک ایس ای سی پی انکوائری ناں کرلے تب تک ریفرنس فائل نہیں کیا جا سکتا ہے.
نیب بیورو کی جانب سے درخواست گزار کی کمپنی پر مانیٹرنگ آفیسر تعینات کیا گیا جو غیر قانونی ہے. درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شہباز شریف، سلمان شہباز سمیت دیگر کیخلاف نیب لاہور میں انکوائری زیر التوا ہے جب کہ اس سے قبل کوئی بھی ریفرنس یا انکوائری التوا میں نہیں ہے. عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ چیئرمین نیب سمیت دیگر کو کمپنی کے معاملات میں دخل اندازی سے روکا جائے اور نیب کا 25 نومبر 2019 کا آڈرغیر قانونی اور کالعدم قرار دیا جائے.خیال رہے کہ ڈائریکٹر نیب لاہور نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیسز میں شریف فیملی کی دس انڈسٹریز منجمد کرنے کے احکامات جاری کیے‘ ذرائع کے مطابق انڈسٹریز میں چنیوٹ انرجی لمیٹڈ، رمضان انرجی، شریف ڈیری اور کرسٹل پلاسٹک انڈسٹری، العریبیہ شوگرمل، شریف ملک پروڈکٹس، شریف فیڈ ملز، رمضان شوگر ملز اور شریف پولٹری شامل ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں