فیاض الحسن چوہان کو وزیرا طلاعات پنجاب بنانے کا فیصلہ غلط قرار معذرت کے ساتھ فیاض الحسن چوہان کا لہجہ ہماری معاشرے کا حصہ بن چکا ہے،تجزیہ کار 227

فیاض الحسن چوہان کو وزیرا طلاعات پنجاب بنانے کا فیصلہ غلط قرار معذرت کے ساتھ فیاض الحسن چوہان کا لہجہ ہماری معاشرے کا حصہ بن چکا ہے،تجزیہ کار

فیاض الحسن چوہان کو وزیرا طلاعات پنجاب بنانے کا فیصلہ غلط قرار
معذرت کے ساتھ فیاض الحسن چوہان کا لہجہ ہماری معاشرے کا حصہ بن چکا ہے،تجزیہ کار
فیاض الحسن چوہان کو وزیرطلاعات پنجاب بنانے کا فیصلہ غلط قراردے دیاگیا۔ نجی ٹی وی چینل پر فیاض الحسن چوہان کو وزیراطلاعات پنجاب مقرر کرنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہا کہ حکومت کا فیاض الحسن کو وزارت اطلاعات کی ذمہ داری دوبارہ سونپناغلط فیصلہ ہے۔ٹاک شو کے اینکر میزبان زریاب عارف سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار عامر ضیاء نے کہا کہ حکومت میں آکر بھی فیاض الحسن چوہان کی گفتگو اسی طرح ہے جس طرح اپوزیشن میں رہ کر تھی۔
حکومت کو بہتر افراد کو کابینہ میں لانے کی کوشش کرنے چاہیے تاہم معذرت کے ساتھ فیاض الحسن چوہان کا لہجہ ہماری معاشرے کا حصہ بن چکا ہے۔سینئر تجزیہ کار ناصربیگ چغتائی نے کہا کہ فیاض الحسن چوہان کو وزیرطلاعات پنجاب بنانے فیصلے سے بہت دکھ ہوا،جو کہ ایک اچھا پیغام نہیں ہے۔

ان کا کہناتھا میاں اسلم اقبال اور صمصام بخاری نرم لہجہ رکھنے والی شخصیت ہیں اسی لئے ان سے وزات چھین لی گئی۔

تجزیہ کار رضا رومی نے کہا کہ حکومت کو فیصلہ کرتے ہوئے سوچنا ہوگا کہ کس طرح کے لوگوں کو کابینہ میں لانا ہے۔ فیاض الحسن چوہان کو ہٹانے پر بھارت میں بھی تعریف ہوئی تھی۔لیفٹیننٹ جنرل (ر)غلام مصطفی نے فیاض الحسن چوہان کو وزیراطلاعات بنانے کے فیصلہ کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حیرانی ہے حکمران معاشرے کو کس جانب لے جانا چاہتے ہیں۔ پنجاب حکومت کے اس فیصلے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کرسکے گا۔تجزیہ کار کامران یوسف کا کہا تھا کہ تحریک انصاف کی سیاست سے واقف ہوں،عمران خان ایسے ہی لب ولہجے کو پسند کرتے ہیں۔حکومتی فیصلے پر حیرانگی نہیں ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں